ان کہی

میرے ذہن میں
ان گنت تانے بانے ہیں ایک کہانی کے
مگر سجھائ نہیں دیتا کہ کس سرے کو کہاں سے پکڑوں
اپنی کہانی کہاں سے شروع کروں
اور پھر میں کہانی نویس بھی نہیں
میرے پاس لفظوں کا وہ ذخیرہ اور بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں
اور پھر تانے بانے کا سرا ہی کہاں ہے
یہ تو ایک گنجلک ہے
سامنے سے سادہ اندر اتر جاؤ تو عمیق
تو پھر میں کیسے کہوں اور کیا
شاید یہ ان کہی میرا مقدر ہے
Advertisements

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s